پاکستان

معطل ہوگی یا نہیں؟ نیب پراسیکیوٹراور جج کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیس میں مخصوص حالات یہ ہیں کہ انہوں نے گلف اسٹیل ملز 1978 میں فروخت کی، مجرمان کے مطابق طارق شفیع اور عبداللہ قائد آہلی کے درمیان فروخت کا معاہدہ ہوا اور یہ موقف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں میں اپنایا گیا تھا۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا مجرمان کہتے ہیں کہ 1980 میں مزید 25 فیصد شیئرز فروخت ہوئے اور  فروخت سے حاصل 12 ملین درہم قطری شہزادے کے پاس سرمایہ کاری میں استعمال ہوئے اور اسی سے ایون فیلڈ پراپرٹیز خریدی۔

مجرمان کے مطابق لندن فلیٹس کی خریداری کے لیے رقم کی بنیاد یہی 12 ملین درہم ہیں، نیب پراسیکیوٹر

نیب پراسیکیوٹر نے کہا مجرمان کے مطابق لندن فلیٹس کی خریداری کے لیے رقم کی بنیاد یہی 12 ملین درہم ہیں اور تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ فروخت کا معاہدہ جعلی ہے اور ایسا کوئی ریکارڈ دبئی کے ریکارڈ میں موجود ہی نہیں ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ دبئی کی حکومت نے بتایا 25 فیصد شیئرز کی فروخت کا معاہدہ ان کے پاس نہیں ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے دلائل کے دوران کہا کہ مریم نواز کی طرف سے سپریم کورٹ میں متفرق درخواست کے ذریعے ایک موقف لیا گیا اور انہوں نے سپریم کورٹ میں سی ایم اے نمبر 7531کے ذریعے دستاویزات جمع کرائیں جس میں قطری خاندان سے کاروباری معاملات کا ذکر کیا گیا۔

آپ جے آئی ٹی نہیں، جے آئی ٹی اور نیب میں بہت فرق ہے، جسٹس گل حسن اورنگزیب کا نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ

اکرم قریشی نے کہا ہمارے پاس بھی یہی موقف اپنایا گیا کہ لندن فلیٹس کی رقم گلف اسٹیل ملز سے آئی جس پر جسٹس گل حسن اورنگزیب نے سوال کیا ہمارے پاس کا کیا مطلب، مجرمان تو پیش ہی نہیں ہوئے۔

نیب پراسیکیوٹر نے اس پر کہا، جے آئی ٹی میں مجرموں کا یہ موقف تھا جس پر جسٹس گل حسن نے کہا آپ جے آئی ٹی نہیں ہیں، جے آئی ٹی اور نیب میں بہت فرق ہے۔

نیب پراسیکیوٹر اکرم قریشی نے کہا مریم نواز کی ملکیت چھپانے کے لیے جعلی ٹرسٹ ڈیڈ بنائی گئی جس پر جسٹس گل حسن نے سوال کیا آپ کہتے ہیں کہ نواز شریف نے مریم کے نام پر فلیٹس بنائے جس پر انہوں نے جواب دیا جی، نواز شریف فلیٹس کے اصل مالک تھے۔

آپ تفتیش سے نواز شریف کا تعلق نہیں جوڑ سکے تو ہم فرض کیسے کرلیں، جسٹس اطہر من اللہ

جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے نیب پراسیکیوٹر کو کہا تو پھر نواز شریف کی ملکیت کا کوئی ثبوت بتا دیں، ہم کیسے فرض کریں، آپ کی اتنی بڑی تفتیش کے بعد نواز شریف کا فلیٹس سے تعلق نہیں بن پا رہا، نواز شریف تو کہیں بھی نظر نہیں آرہا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ‘آپ تفتیش سے نواز شریف کا تعلق نہیں جوڑ سکے تو ہم فرض کیسے کرلیں’۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا ‘2012 تک مریم نواز ان فلیٹس کی بینفشل اونر تھی اور بعد میں ایک جعلی ٹرسٹ ڈیڈ بنا کر ٹرسٹی بنیں، اس ٹرسٹ ڈیڈ میں کیلیبری فونٹ کا استعمال ہوا جو ان دنوں دستیاب ہی نہیں تھا اور ٹرسٹ ڈیڈ میں تاریخیں بھی بدلی گئیں۔

اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن نے سوال کیا فرض کریں مریم نے جعلی دستاویزات پیش کیں، یہ بتائیں ذرائع سے زیادہ آمدن پر سزا کیسے ہوسکتی ہے۔

سب سوال مجھ سے پوچھنے ہیں، کوئی سوال اُدھر سے بھی پوچھ لیں، نیب پراسیکیوٹر

اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کبھی ادھر سے بھی کوئی سوال پوچھ لیں، سب سوالات مجھ سے ہی پوچھنے ہیں جس پر عدالت نے کہا دلائل آپ کے ہیں اور سوال بھی آپ سے ہوگا۔

عدالت نے پوچھا 1993 میں مریم نواز کی عمر کیا تھا جس پر اکرم قریشی نے بتایا اس وقت مریم نواز 20 سال کی تھیں۔

عدالت نے سوال کیا ‘آپ کا موقف ہے کہ 1993 میں نواز شریف نے لندن فلیٹس خریدے تو مریم نواز پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس کیسے بن گیا، آپ کا کیس ہے کہ مالک مریم نواز نہیں بلکہ نواز شریف ہیں۔

جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا، ‘جی میں یہی کہہ رہا ہوں مالک مریم نواز نہیں بلکہ نواز شریف ہیں، یہ میں نہیں کہتا یہ قانون کہتا ہے کہ آپ فرض کریں۔

عدالت نے سوال کیا آپ یہ کہتے ہیں ان بچوں کے دادا کا وہاں کوئی کاروبار نہیں تھا جس پر اکرم قریشی نے کہا یہ ان کا موقف ہے کہ طارق شفیع ان کے دادا کا کاروبار سنبھال رہے تھے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کوئی ایسا ریکارڈر دیں جو نواز شریف کا کسی بھی حثیت میں کردار ثابت کرتا ہو، کیا صرف مفروضے کی بنیاد پر سزا ہوسکتی ہے جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا قانون شہادت تو ایسا کرنے کا کہتا ہے، میں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی بتایا ہے جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا وہ منارٹی ججمنٹ ہے۔

اکرم قریشی نے کہا قانون شہادت کے اصول عام مقدمات میں مختلف جبکہ اس کیس میں مختلف ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا سپریم کورٹ کے طے کردہ اصول کے مطابق نیب کو تفصیلی تفتیش کرنی تھی، ان کے معلوم ذرائع آمدن کہاں پر تفتیش کیے، وہ دستاویزات کون سی ہیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا سپریم کورٹ کا لاء یہاں قابل عمل نہیں ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ‘کیا سپریم کورٹ کا لاء قابل عمل نہیں ہے، معلوم ذرائع آمدن کا چارٹ کہاں پر ہے، کیا میں یہ لکھ دوں کہ اس کیس میں سپریم کورٹ لاء کا اطلاق نہیں ہوتا جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا جی لکھ دیں اس کیس میں سپریم کورٹ لاء کا اطلاق نہیں ہوتا۔

کیا پیش کردہ ذرائع آمدن کا چارٹ غیر متعلقہ ہے، جسٹس اطہر من اللہ کے سوال پر نیب پراسیکیوٹر کا ہاں میں جواب

 

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close