سائنس/ٹیکنالوجی

بجلی چور ہوشیاراب قانون کے ہاتھوں سے بچنا نا ممکن

وزارت آئی ٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے آرٹیفیشنل انٹیلی جنس کی مدد سے کام کرنے والی جدید ٹیکنالوجی تیار کر لی گئی ہے۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام کا اجلاس میں بہت سے اہم فیصلے ہوئے جس کی صدارت سینیٹر روبینہ نے کی یہ اجلاس اسلام آباد میں منقعد ہوا-

اس اہم اجلاس میں بتایا گیا کہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے جید ٹیکنالوجی تیار کر لی گئی ہے جو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے کام کرے گا۔

آئی ٹی حکام کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے 90 فیصد لائن لاسز اور بجلی کی چوری روکی جا سکتی ہے۔

درائع کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ایک چپ کی مدد سے کام کرے گی جو میٹر میں خفیہ طور پر نصب ہو گی۔

وزارت آئی ٹی حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی اسمارٹ میٹرز اور اسمارٹ گرڈ سے بہتر ہے اور اس ٹیکنالوجی کی مدد سے صارفین کو پی ٹی سی ایل کی طرح بلنگ کی جاتی ہے۔

حکام نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کا تجربہ ایم ای ایس پشاور اور ایم ای ایس راولپنڈی میں کیا گیا جس سے ایک سال میں 35 فیصد بجلی چوری روکنے میں کامیابی ہوئی۔

آئی ٹی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت ٹیکنالوجی کو وزارت توانائی کے حوالے کرے تو فائدہ ہو گا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ چینی کمپنی بھی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 46 ملین ڈالر سرمایہ کاری کرنا چاہتی تھی لیکن دو سال تک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بورڈ کا اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے چینی کمپنی نے دلچسپی نہ دکھائی۔

آئی ٹی حکام نے بتایا کہ سابق حکومت کو بھی اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی تھی مگر انہوں نے کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close