پاکستان

پولیس چیف کا بڑا بیان کالی بھیڑوں کو نکالنے کا فیصلہ

پولیس چیف نے تفتیشی افسران سے شکایات سنیں، مشورے لیے اور احکامات جاری کرتے ہوئے پولیس سیٹ اپ میں انقلابی تبدیلیوں کا اعلان کیا۔

اعلی سطح کے اجلا س میں ان کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ افراد کے ساتھ ملی ہوئی بعض کالی بھیڑوں کو سنبھلنے کا بہت موقع دیا لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے، 36 ہزار کی پولیس فورس میں 100 سے زائد لوگ بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، افسران تفتیش میرٹ پر کریں، کسی کے بھی کہنے پر تفتیش خراب کرنے والوں کو وارننگ دیتا ہوں، پولیس میں اچھے کام پر ملازمین کو انعامات سے نوازا جا رہا ہے جب کہ بری کارکردگی پر کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔

پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ نے 3 ماہ میں ہر ضلع کی سطح پر بین الاقوامی معیار کے مطابق انٹیروگیشن روم قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ تھانوں کے ریکارڈ کیپنگ کے معاملات اور سی آر ایم ایس ایس آئی اوز کی ذمہ داری ہوگی۔

انھوں نے یہ دعوہ بھی کیا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم بڑھا نہیں کم ہوا ہے، موٹر سائیکل چوری روکنے کی کوشش کررہے ہیں، پولیس میں آپریشن اور انویسٹی گیشن ایک ہی یونٹ ہیں، ایک دوسرے کو کامیاب کریں، پولیس کے شعبہ تفتیش کو مضبوط اور جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تھانوں کے حوالات اور مال خانے ایس آئی اوز کے ماتحت کردیئے گئے ہیں، تمام حراستوں کا ذمہ دار تفتیشی انچارج ہوگا جب کہ چھاپہ مار کارروائیوں کے لیے ہر تھانے میں 8 سے 10 پولیس ملازمین پر مشتمل “ریڈ پارٹی” ہوگی۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close