پاکستان

بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد زرداری مجھے کس کام کیلئے استمعال کرتے تھے ؟ صںم بھٹو کے انکشاف نے کہرام مچادیا

اسلام آباد : صںم بھٹو نے احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے سے انکار کر دیا۔قومی اخبر کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی بہن صنم بھٹو کو دیار غیر سے بلوا کر کہا گیا ہے کہ وہ نیب اور حکومت کے خلاف تحریک میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے قیادت کریں۔

جس پر صنم بھٹو نے اپنے بھانجوں اور دیگر رشتہ داروں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی صورت سیاست میں نہیں آنا چاہتی اور ان کی خواہش ہے کہ یہ قیادت فریال یا بلاول ہی کریں اور میری خواہش ہے کہ شہید رانی کے ویژن اور سوچ پر پارٹی کام کرے میری دعائیں ان کے ساتھ ہوں گی۔صنم بھٹو نے کہا کہ وہ اپنی فیملی سے مشورہ کر کے حتمی جواب دیں گی۔

تاہم یہ بات واضح ہے کہ صنم بھٹو کو سمجھ آ چکی ہے کہ محتمہ شہید بے نظیر بھٹو اور ان کی بہن کا سہارا لے کر اس تحریک کو چلانے کی جو کاوش ہے اور اس کے سیاست مقاصد سے بھی بخوبی واقف ہیں اور وہ کسی صورت ایسے عمل کا حصہ نہیں بنیں گی۔جب کہ سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکرٹری ناہید خان نے کہا ہے کہ میرے خیال میں صنم بھٹو کی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں اور ویسے بھی پیپلز پارٹی کو جس نہج پر پہنچا دیا گیا اس کیلئے صنم بھٹو بھی کچھ نہیں کر سکتیں، گرفتاری کی صورت میں کسی طرح کی تحریک چلانے کی بجائے محترمہ بینظیر بھٹو کی طرح کیسز کا عدالتوں میں سامنا کیا جائے ، پیپلز پارٹی کے کارکن اب قربانیاں دے دے کر تھک گئے ہیں ،حکومت کی کارکردگی جانچنے کیلئے 100روز کافی نہیں موجودہ حکومت کو کم از کم ایک سے ڈیڑھ سال دینا ہوگا ۔

ناہید خان نے کہا کہ اب سیاست بہت آگے چلی گئی ہے ، پیپلز پارٹی کی جتنی تباہی کر دی گئی ہے ایسے میں صنم بھٹو ہو یا کوئی اور پارٹی کو پائوں پر کھڑا نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی غریبوں، مزدووں، ہاریوں، طلبہ، اقلیتوں اور پسے ہوئے طبقات کی سوچ اور آواز تھی اور ذوالفقار بھٹو کے بعد بی بی کی شکل میں امید کی کرن سامنے آئی لیکن اسے بھی ختم کر دیا گیا ۔

چاروں صوبوں کی پارٹی آج چند اضلاع تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ انہوںنے ملک قرضوں میں جھکڑا ہوا ہے ، ہر شعبے میں خرابی ہے کسی حکومت کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہوتی کہ وہ 100 روز میں کارکردگی دکھائے اس لئے حکومت کو ایک سے ڈیڑھ سال کا وقت دینا چاہیے کیونکہ عوام نے اس حکومت کو تبدیلی کیلئے ووٹ دیا تھا۔ انہوںنے آصف علی زرداری کی گرفتاری کی صورت میں ممکنہ تحریک چلانے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹونے اپنے خلاف بنائے گئے کیسز کا عدالتوں میں سامنا کیا ، اس لئے آصف زرداری کوبھی بی بی شہید کی طرح عدالتوں میں اپنے کیسز کا دفاع کرنا چاہیے ، پیپلز پارٹی کے کارکن اب قربانیاں دے دے کر تھک گئے ہیں ۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close