پاکستان

شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کیا جائے گا یا نہیں ؟ حکومت کا ایسا فیصلہ کہ کوئی یقین نہیں کرسکتا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خواہش ہے پاک بھارت تعلقات بہتر ہوں کرتارپور بارڈر کھولنے سے پاکستان نے لاکھوں سکھوں کا دل جیت لیا جو بہت اہم ہے۔

روزنامہ خبریں کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سے ہر معاملے پر بات کرنے کو تیا ر ہے ہمارے بھی شکوے ہیں دہشت گردی کا حل یہ نہیں کہ بھارت ٹیبل ٹاک سے انکار کرے۔ چینی قونصلیٹ پر حملے پر فی الحال بات نہیں کرنا چاہتا لیکن ہمیں معلوم ہے حملے کے تانے بانے کہاں سے جڑتے ہیں اور حملے کا ماسٹر مائنڈ کس ملک کے ہسپتال میں زیرعلاج ہے یہ پاک چین تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنے کی چال تھی۔ ہم نہیں چاہیں گے پاکستان کی سرزمین بھارت یا افغانستان کے خلاف استعمال ہو بھارت اور افغانستان کو بھی ایسا ہی کر نا چاہئے۔ اپوزیشن پر کرپشن کے کیسز تحریک انصاف نے نہیں بنائے جو بے گناہ ہے وہ بری الذمہ ہوگا پکڑ صرف کرپشن کرنے والے کی ہو گی۔

تحریک انصاف کے کئی لوگ بھی احتساب کے عمل سے گزر رہے ہیں کسی ایک طبقے یا جماعت پرفوکس نہیں۔ کسی حکومت کے پاس الہ دین کا چراغ نہیں ہوتا کہ سو دن میں مسائل حل کر دے البتہ سمت کا تعین کر لیا۔ ہم نے پختہ ارادہ کیا ہے جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے لیکن اس میں قانونی و آئینی رکاوٹیں ہیں ورنہ ہم ابھی کر لیتے کاش ہمارے پاس دوتہائی اکثریت ہوتی۔ شکیل آفریدی کو قانون کے مطابق سزا ہوئی ان کا اس طرح جانا ممکن نہیں۔ دنیا کے حالات جو بھی ہوں ہر ملک کا اپنا نقطہ نظر تو ہوتا ہے وزیر خارجہ ہو تو کم سے کم ہم دنیا کے سامنے اپنا کیس تو پیش کر ہی سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات سمت کا تعین ہوتا ہے ایران کو سی پیک سے کوئی تحفظات نہیں۔ گزشتہ حکومت بس سڑکیں اور پل بنانے کی حد تک پرعزم تھی لیکن موجودہ حکومت کا فوکس انسانوں پر خرچ کرنا ہے ترقی یافتہ ملک بھی انسانوں پر خرچ کرتے ہیں۔

ہم چین سے سکلڈ ڈیویلمپنٹ کے لئے بھی معاونت لے رہے ہیں۔ چین کو قائل کیا ہے موجودہ حکومت کی ترجیحات مختلف ہیں جو ہم نے شیئر بھی کیں جسے اس نے قبول کیا ہے۔ چین پاکستان کا پراعتماد دوست ہے۔ چین کی جانب سے اچھی خبریں آ چکی ہیں۔ وزیراعظم کسی بھی ملک کا چہرہ ہوتا ہے جب وہ بات کرتے ہیں تو قوم کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ٹرمپ سے ٹویٹ کے تبادلے پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ٹویٹ کا مقصد حقائق اور ریکارڈ دو درست کرنا تھا۔ امریکہ سے خدانخواستہ تعلقات خراب نہیں۔

میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے دو مرتبہ مل چکا ملاقات مثبت رہی۔ امریکہ میں بہت سے لوگ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف خدمات کو سرا ہتے ہیں۔ صرف امریکہ ہی آئی ایم ایف کا ممبر نہیں اور بھی ملک ہیں تاہم اس میں شک نہیں امریکہ ایک اہم ملک ہے۔ افغانستان سے اچھے تعلقات ہماری ضرورت بھی ہے وہ ہمسایہ ملک ہے۔ صرف امریکہ کے کہنے پر طالبان قیادت کو رہا نہیں کیا۔ ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں۔ فاٹا کے لوگ محب وطن ہیں بس ایک چھوٹا سا طبقہ امن نہیں چاہتا۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close