پاکستان

شہباز شریف نے کرپشن نہیں کی نیب نے عدالت میں اعتراف کرلیا، سنسنی خیز خبر

لاہور: احتساب عدالت نے شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں 9 کی مزید توسیع کر دی ہے ۔دوران سماعت نیب کے تفتیشی افسر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ انھوں نے کوئی کرپشن کی ہے بلکہ جو گفٹس دیئے گئے ہیں ہم ان کی تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے شہباز شریف کے خلاف کیس کی سماعت کی۔نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ اور اسد اللہ جبکہ شہباز شریف کی جانب سے ان کے وکیل امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر جج نجم الحسن نے استفسار کیا کہ شہباز شریف کا کتنے دن کا ریمانڈ ہوچکا ہے؟جس پر نیب حکام نے بتایا کہ شہباز شریف 54 روز سے تحویل میں ہیں، تاہم سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے تصحیح کی کہ 55 دن ہوچکے ہیں۔احتساب عدالت کے جج نے مزید استفسار کیا کہ 55 روز ہوگئے، کیا تفتیش مکمل نہیں ہوئی؟جس پر نیب حکام نے جواب دیا کہ کافی سارے دن قومی اسمبلی کا اجلاس بھی جاری رہا، جس کی وجہ سے تفتیش نہیں ہوسکی۔تاہم شہباز شریف نے کہا کہ اس دوران بھی تفتیش ہوتی رہی اور انہیں سوالنامہ دیا گیا تھا۔

نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے آشیانہ اقبال ہاو¿سنگ پراجیکٹ میں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور ا±ن پر بطور وزیراعلیٰ قومی خزانے کو کڑوروں کا نقصان پہچانے کا الزام ہے۔نیب کے تفتیشی افسر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ انھوں نے کوئی کرپشن کی ہے بلکہ جو گفٹس دیئے گئے ہیں ہم ان کی تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔

تفتیشی افسر کے مطابق حمزہ شہباز شریف کو 2011 میں جو گفٹ دیئے گئے، اس کا ریکارڈ موجود نہیں، ٹیکس ریٹرن ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں کہ 6 کروڑ کے گفٹ کیسے دیئے؟جس پر شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ تفتیشی افسر آشیانہ کیس کی بات کریں کہ اس میں کیا بے ضابطگی ہے۔شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ آشیانہ اقبال کیس کے حوالے سے ہونے والی میٹنگز میں شریک افراد سے سامنا نہیں کروایا گیا۔جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ان لوگوں کے بیان ریکارڈ ہوچکے ہیں۔تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ جی تمام لوگوں کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close