پاکستان

خادم رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک کے حالات کشیدہ، کراچی سے بڑی خبرآگئی

کراچی: تحریک لبیک کے قائد خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک کے حالات کشیدہ کراچی میں مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان چھڑپیں-

ذرائع کے مطابق کراچی کے علاقے نمائش چورنگی پر تحریک لبیک کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں سے علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ مشتعل مظاہرین کی ہنگامہ آرائی اور دوطرفہ فائرنگ سے تحریک لبیک کے 3 کارکنان زخمی ہوگئے، درجنوں کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا۔ آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ سے مظاہرین لائنز ایریا کی گلیوں میں گھس کر خود کو بچانے لگے-

رینجرز کی بھاری نفری طلب کرلی گئی جس نے صورتحال پر قابو پالیا۔ رینجرز اور پولیس نے نمائش چورنگی ایم اے جناح روڈ ٹریفک کے لیے بحال کرادیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں تحریک لبیک کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے لیے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب اچانک تحریک لبیک کے بانی علامہ خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے حکم نامے کے بعد ملک بھر میں تحریک لبیک کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا۔

لاہور اور دیگر شہروں میں ٹی ایل پی کے رہنماؤں سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاری کے خلاف کراچی نمائش چورنگی پر تحریک لبیک کے درجنوں کارکنوں نے پہنچ کر احتجاج کرنا شروع کردیا۔ مشتعل مظاہرین نے ایم اے جناح روڈ اور نیو ایم اے جناح روڈ ٹریفک کے لیے بند کر دیا تھا جس پر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تاہم مظاہرین نے مزاحمت شروع کردی، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے باعث علاقہ میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا۔

پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر زخمیوں کی شناخت 17 سالہ وسیم ولد رفیق، 40 سالہ شفیق ولد عبدالرشید اور 35 سالہ شیراز ولد سردار کے ناموں سے کی گئی جبکہ مضروب وسیم کی گردن پر گولی لگنے کے باعث حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

تینوں زخمیوں کا تعلق تحریک لبیک ٹی ایل پی سے بتایا جاتا ہے۔ جبکہ پولیس نے اس دوران متعدد کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔آنسو گیس کی شیلنگ و فائرنگ سے بچنے کے لیے تحریک لبیک کے درجنوں کارکنوں نے لائنزایریا کی گلیوں میں گھس کر احتجاج کیا۔ تاہم پولیس نے نمائش چورنگی مین شاہراہ ٹریفک کی آمدورفت کے لیے بحال کرادیا۔ دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رات بھر شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے ماڈل کالونی، ملیر، معین آباد، کورنگی، لانڈھی، کھوکھراپار، بلدیہ ٹاؤن سمیت دیگر مقامات پر تحریک لبیک کے درجنوں رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھا حراست میں لیے گئے رہنماؤں اور کارکنوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا جبکہ گرفتاری سے بچنے کے لیے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد روپوش ہوگئی ہے۔

صبح سویرے گلستان جوہر، گلشن اقبال، نیو کراچی، گودھرا کے علاقوں میں چھاپوں کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات کے علاوہ پنجاب بھر میں بھی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ ذرائع کے مطابق تحریک لبیک کی جانب سے اسلام آباد میں آسیہ مسیح رہائی کیس کے حوالے سے متوقع احتجاج اور دھرنا دیے جانے کے بعد پنجاب پولیس کی جانب سے پارٹی کارکنوں کی گرفتاری کے حوالے سے فہرستیں مرتب کی گئیں اور ان کی گرفتاری کے لیے لاہور سمیت راولپنڈی، ملتان، سرگودھا، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ساہیوال ڈویڑن کے ساتھ 80 سے زائد شہروں اور قصبوں سے اہم رہنماؤں اور دیگر کارکنوں کو گرفتار کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا تھا۔

گزشتہ رات کریک ڈاؤن کے بعد پولیس اور کارکنوں کے درمیان تصادم شروع ہوگیا کارکنوں نے گرفتاریوں سے بچنے کے لیے پولیس پر اینٹوں اور پتھروں سے حملہ کردیا تاہم اینٹی رائٹ فورس، پیرو ڈولفن، مقامی پولیس سمیت ایلیٹ اور اضافی نفری نے انہیں منتشر کردیا۔

Source
اردو پوائنٹ
Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close