پاکستان

خادم حسین رضوی کتنے عرصے تک قید رہیں گے۔۔۔حکومت نے واضح طور پر بتا دیا

خادم حسین رضوی کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ، نوٹی فکیشن بھی جاری

لاہور : گذشتہ رات پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تحریک لبیک کی جانب سے 25 نومبر کو دی جانے والی احتجاجی کال سے امن و امان جکی صورتحال خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر صوبہ پنجاب باالخصوص راولپنڈی سے تحریک لبیک کے کارکنان کو گرفتار کرنا شروع کیا جس کے بعد تحریک لبیک کے قائدین کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

تحریک لبیک کے قائد خادم حسین رضوی کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا جس کا باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خادم حسین رضوی کی 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ خادم رضوی سمیت 95 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تمام افراد کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا اور تمام گرفتار افراد 30 دن تک جیل میں ہی قید رہیں گے۔

یاد رہے کہ گذشتہ رات تحریک لبیک کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز ہونے کےبعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اپنے ٹویٹ میں بتایا تھا کہ تحریک لبیک کے قائد خادم حسین رضوی کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے، جس کی وجہ تحریک لبیک کی جانب سے 25 نومبر کی احتجاجی کال واپس نہ لینا ہے۔گذشتہ رات تحریک لبیک کے کارکنوں کے بعد تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی اور تحریک لبیک کی دیگر قیادت کو بھی گرفتار کر لیا گیا ، جس کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہنگامی ہلچل اور ایکشن دیکھنے میں آیا ۔

اسلام آباد پولیس نے تحریک لبیک کی قیادت کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے بعد کسی بھی قسم کی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں کو کنٹینر لگا کر محفوظ بنانے کے عمل کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں اسلام آباد کے ریڈ زون اور فیض آباد کو کنٹینرز لگا کر سیل کیا گیا۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ تحریک لبیک 25 نومبر کو پھر سے ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔

تحریک لبیک آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کے بعد کیے جانے والے پرتشدد مظاہروں پر معافی مانگنے کے بعد اب دوبارہ ویسے ہی پُرتشدد مظاہرے کرنے کی منصوبہ کر رہی تھی، اسی باعث ملک بھر میں تحریک لبیک کے خلاف کریک ڈاون کا آغاز کیا گیا ۔ قائدین کی گرفتاری کے خلاف تحریک لبیک نے احتجاج کی کال دی جس کے لیے مختلف شہروں سے تحریک لبیک کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئے۔ امن و امان کی صورتحال قائم رکھنے اور کسی ناخوشگوار وا قعہ سے بچنے کے لیے لاہور سمیت پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close