پاکستان

مہاتیر محمد اور عمران خان کے تعلقات کے متعلق اہم انکشاف

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان اور مہاتیر محمد کے درمیان تعلقات 30 سال پرانے ہیں اور عمران خان کے کہنے پر مہاتیر محمد پہلے بھی پاکستان آچکے ہیں-

وزیراعظم پاکستان عمران خان ابھی حال ہی میں ملائیشا کا دورہ کرکے آچکے ہیں اور تاہم ان کے حالیہ دورے کی گونج ابھی تک سنائی دے رہی ہے ،وزیر اعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے بھی کئی بار اپنی تقریروں میں مہاتیر محمد کو اپنا آئیڈل رہنما قرار دے چکے ہیں جبکہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد اب ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ملائیشیا کا ماڈل اختیار کرنا چاہتے ہیں اور ان کے تجربات سے استفادہ کی خواہش رکھتے ہیں،

ماضی میں عمران خان کے قریبی دوست رہنے والے سینئر سحافی نے کچھ ایس رازوں سے پردہ اٹھایا ہے کہ سن کر آپ بھی حیران ہوجائیں گے-

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق معروف تجزیہ کار ہارون الرشید نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حسن اتفاق ہے کہ عمران خان کو مہاتیر محمد کا راستہ میں نے ہی دکھایا تھا،14 پندرہ برس پہلے کی بات ہے میں نے عمران خان سے کہا کہ مہاتیر محمد آپ کو پسند کرتے ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ مجھے بھی لگتا ہے کہ وہ مجھے پسند کرتے ہیں۔ میں نے کہا جائیے ان سے ملیے وہ اس وقت دنیا کے حکمرانوں میں ایک سیاسی مدبر کی حیثیت رکھتے ہیں، اُنہوں نے اپنی ملکی معیشت ٹھیک کی ہے، ملکی سیاست کو بھی ٹھیک چلایا ہے، ملک کو غربت سے نکالا ہے،ان کا تجربہ بہت ہے اور یہی مسائل پاکستان کے بھی ہیں۔ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ جب مہاتیر محمد اقتدار میں نہیں تھے تو عمران خان ان کے گھر پر گئے اور تین چار گھنٹے ان کے ساتھ رہے،عمران خان نے میرے اصرار پر مہاتیر محمد کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی ،جب وہ پاکستان آئے تو عمران خان کو مہاتیر محمد کی میزبانی بہت مہنگی پڑی، مہاتیر محمد ابھی اقتدار میں نہیں تھے اور وہ نجی حیثیت میں عمران خان کی دعوت پرپاکستان آئے اور تین دن کے لیے عمران خان کے مہمان بنے، عمران خان کو مہاتیر محمد کی تین روزہ مہمانی 30 لاکھ میں پڑی تھی اور اس مہمان داری میں عمران خان کو 30 لاکھ روپے کا قرض لینا پڑا جو بڑی مشکل سے ادا کیا گیا کیونکہ خان کو اس وقت چندہ کون دیتا تھا؟۔ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ مہاتیر محمد پاکستانی قوم کی کام کرنے کی اہلیت کے بہت معترف ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ جو کام ملائیشیا کا شہری ایک سال میں سیکھتا ہے، پاکستانی شہری اسی کام میں چھ ماہ میں ماہر ہو جاتا ہے،مہاتیر محمد عمران خان کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ اگر پاکستان میں ان جیسا کوئی شخص اقتدار میں ہوتا تو پاکستان کے ساتھ مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ عمران خان کے اندر سیاست اور معیشت دونوں کو سمجھنے کی اہلیت نہیں،البتہ وہ ایماندار اور ان کی شخصیت میں کرشمہ ہے، وہ نیک نیتی سے کسی بھی موضوع پر بات کرتے ہیں تو پیغام بہت دور تک جاتا ہے۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close