پاکستان

نیب کو کون کنٹرول کر رہا ہے ؟ بڑا انکشاف

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور احتساب بیورو (نیب) کے ڈائریکٹر جنرل لاہور سلیم شہزاد کے حالیہ انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ واضح ہوگیا کہ نیب کو سیاست کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے گزشتہ روز نیب ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد نے جیونیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں خصوصی انٹرویو کے دوران شریف خاندان کے افراد کے خلاف بیانات دے تھے-

سلیم شہزاد کا کہنا تھا کہ آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتار سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف اتنے ثبوت ہیں کہ اس ماہ کے آخر میں ان کے خلاف ریفرنس دائر کردیا جائے گا۔

آج دیگر لیگی رہنماوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ‘بات بڑی سیدھی ہے کہ بولو گے تو نیب کا کیس بنے گا، واضح ہوگیا ہےکہ نیب کیا کررہا ہے اور کن مقاصد کے لیے کررہا ہے’۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات ہیں کہ کسی کی پگڑی نہ اچھالی جائے، لیکن آج لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جارہی ہیں اور حکومت کی ایما پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، یہ ملک کے سیاسی نظام سے انتقام کی کوشش ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب کو سیاست کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جارہاہے اور اس وقت صرف (ن) لیگ کوانتقام کا نشانہ بنایاجارہا ہے۔

انھوں نے نیب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نیب کی جانب سے صرف مفروضات کی بنا پر الزامات لگائے جا رہے ہیں، ایک ڈی جی لیول کا شخص ٹی وی پر آکر الزامات لگاتا ہے، جبکہ اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک حکومتی اہلکار ٹی وی پر آکر ایسی گفتگو کرتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ڈی جی نیب کی اپنی ڈگری بھی متنازع ہے، وہ اپنی ڈگری میڈیا کو پیش کریں تاکہ ایچ ای سی سے تصدیق کرائی جاسکے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتار کیا گیا، لیکن کوئی ثبوت نہیں ملے۔

انھوں نے نیب کو ایک بڑی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر نیب نے میڈیا ٹرائل کرنا ہے تو ہمیں بٹھا کر کیا جائے، ہم اس کا جواب دے دیں گے۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ نیب افسران الزامات لگارہے ہیں، یہ انہونی بات ہے، جو کام بدترین آمریت میں نہ ہوئے وہ موجودہ حکومت میں ہو رہے ہیں۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close