کھیل

پاک نیوزی لینڈ ون ڈے سیریز سے قبل شعیب ملک کا اہم بیان سامنے آگیا

نیوزی لینڈ سیریز سے قبل شعیب ملک نے اپنے جارہانہ بیان میں کہا کہ کبھی ٹیم پر بوجھ نہیں بنوں گا تاہم آئندہ سال ورلڈ کپ کے بعد ورلڈ ٹی ٹوئنٹی بھی کھیلنا چاہتا ہوں۔

دبئی میں نیوزی لینڈ سیریز سے قبل دے گئے انٹرویو میں شعیب ملک نے کہا کہ آئندہ سال ورلڈ کپ کھیلنے کے بعد ون ڈے کرکٹ چھوڑ دوں گا، بعد ازاں ملک کیلیے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی بھی کھیلنا چاہتا ہوں لیکن اس کا انحصار فارم اور فٹنس پر ہوگا،اگر میدان میں مشکل جگہ پرفیلڈنگ کرتے ہوئے بھی توقعات پر پورا اترسکوں، ٹیم کیلیے 100فیصد دینے کے قابل ہوا تو ٹھیک ہے، اندر کا انسان بولا ’’شعیب میاں اب بس کرو‘‘ تو کرکٹ چھوڑ دوں گا،کبھی ٹیم پر بوجھ نہیں بنوں گا۔

شعیب ملک سے جب ایشیا کپ کی شکستوں کے بارے میں پوچھا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ کسی میچ میں ہار یا سیریز میں ناکامی پر کپتان اور کھلاڑیوں کو تبدیل کردینے کی باتیں شروع کردینا درست نہیں، یہ نہیں ہوتا کہ ایک سیریز میں کسی کی کارکردگی بہتر ہوئی تو اس کو کپتان سے ہٹادیا جائے، یہ کوئی بات نہیں کہ پرفارمنس کی وجہ سے کسی کا نام نمایاں ہو تو اس کو قیادت بھی سونپ دی جائے۔

اسی لیے بطور ٹیم کے گرین شرٹس کامیاب ہیں،ٹیسٹ اور ون ڈے میں اس لیے پیچھے ہیں کہ زیادہ تر کھلاڑی 30، 40یا 50میچ کھیلے ہوئے ہیں،تجربہ کی کمی کے سبب بعض اوقات مشکل لمحات میں توقعات کے مطابق کھیل پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے،اچھی بات ہے کہ ان کو تسلسل کیساتھ مواقع مل رہے ہیں،ورلڈکپ تک مزید میچ کھیل کر پختہ کار ہونگے، اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئینگے۔

ایشیا کپ میں کارکردگی کی وجہ سے میرا نام چل رہا تب بھی کپتانی کا نہیں سوچا، میرے خیال میں کپتان کو طویل مدت کیلیے ذمہ داری سونپ کر ٹیم کو بنانے اور چلانے کا موقع دینا چاہیے، بہترین دستیاب ٹیلنٹ کو مسلسل مواقع دینے سے ہی مثبت نتائج سامنے آتے ہیں، ایشیا کپ کے بعد سلیکشن کمیٹی افراتفری کا شکار ہوکر فیصلے کرنے لگتی تو آج پاکستان فتوحات کے ٹریک پر واپس نہیں آتا،سرفراز کی قیادت میں انہی پلیئرز نے کم بیک کرتے ہوئے آسٹریلیا کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دی۔

شعیب ملک نے کہا کہ پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں مسلسل فتوحات کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کم وبیش یہی کھلاڑی 2 سال سے ایک ساتھ کھیل رہے ہیں،کمبی نیشن بنا ہوا ہے، بیٹسمینوں کو کسی بھی نمبر پر بھیجو چیلنج کے طور پر لیتے ہیں،بولرزکوجب بھی موقع دیا جائے وکٹیں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں،اچھے فیلڈرز کو معلوم ہے کہ کن اوورز میں انھیں کہاں اورکس انداز کی فیلڈنگ کرنا ہے،ٹی ٹوئنٹی میں بروقت چھوٹی سی پرفارمنس بھی بڑی ثابت ہوجاتی ہے۔
اس کے بعدٹی ٹوئنٹیکرکٹ میں کینگروز کے بعد کیویز کو بھی کلین سوئپ کیا،کپتان اور کھلاڑیوں پر اعتماد برقرار رکھنے کے نتیجے میں ہی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں،کنڈیشنز جیسی بھی ہوں،آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بڑی ٹیمیں ہیں، کھلاڑیوں کو فتوحات کا کریڈٹ دینا چاہیے، سرفراز تینوں فارمیٹ میں کپتانی کی اہلیت رکھتے اور مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ یہ پاکستان کرکٹ کیلیے نیک شگون ہے۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close