پاکستان

فواد چوہدری کی مولانا فضل الرحمان اور چیف جسٹس پر سخت تنقید

اسلام آباد : وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے مولانا فضل الرحمان سمیت فخر پاکستان چیف جسٹس میاں ثاقب نثار پر لفظوں کے وار-

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلات فواد چویدری کا کہنا تھا کہ آئی جی کے تبادلے کی وجہ ان کے خلاف مختلف شکایات تھیں، آئی جی اسلام آباد کا تعاون ٹھیک نہیں تھا، اسلام آباد میں ڈرگ اور اسکولوں میں منشیات فروخت کی جارہی ہے، پولیس نے ڈرگ مافیا کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی جی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو جوابدہ ہے، بیورو کریسی سے متعلق کچھ مسائل ہیں جن کو حل کررہے ہیں، قومی اسمبلی کاکام قانون سازی ہے اور بیوروکریسی کا کام عملدرآمد ہے، بیوروکریسی کام نہیں کرے گی تو وزیراعظم اور چیف منسٹرز ان کی تبدیلی کا حق رکھتے ہیں اور اگر بیورو کریسی کے ذریعے حکومت چلانی ہے تو الیکشن نہیں کرتے، اگر وزیراعظم آئی جی کو بھی معطل نہیں کرسکتا تو الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں، چار بیورو کریٹ سے حکومت چلا لیتے ہیں۔

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ہ کیسے ہوسکتاہے آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر کا فون نہ اٹھائیں، یہ ممکن نہیں کہ چیف سیکرٹریز اور آئی جیز فون نہ اٹھائیں، فون نہ اٹھانا حکومت یا اپوزیشن کامعاملہ نہیں، فون نہ اٹھاکر ہیرو بننےکا بیانیہ پھیلایا جارہا ہے۔

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ  5 سال کے دوران خیبرپختونخوا میں شکایات پر پولیس والوں کے تبادلے کیےگئے، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے اختیارات ہیں جنہیں وہ استعمال کریں گے، ممکن نہیں کہ آئی جی، ڈی سی یا کوئی اور وزیراعظم اور دیگر کو جواب دہ نہ ہوں۔

مولانا فضل الرحمان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان اور ان کی پارٹی کو دن میں تارے اور رات اسرائیلی طیارے نظر آرہے ہیں، یہ لوگ اس وقت بھی گمراہ تھے جب پاکستان بن رہا تھا ان کے بزرگ پاکستان بنانے کے خلاف کھڑے تھے، یہ برٹش راج کے ساتھ تھے، گزشتہ روز جب کشمیر میں پوری قوم اور کشمیری یوم سیاہ منارہے تھے تو مولانا فضل الرحمان کا ایک بیان بھی دکھادیں، یہ 1988 سے کشمیر کمیٹی پر براجمان ہیں، فضل الرحمان اور نواز شریف ملے ہوئے ہیں یہ بھارت کے ایجنڈے کو آگے بڑھارہے تھے۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close