پاکستان

دوسروں کو گیم کھیلتا دیکھ کر ویڈیو گیم بنانے والا سافٹ ویئر

جارجیا: ہم جب بھی گیم کھیلتے ہیں تو آرٹیفشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے سافٹ ویئر سے عموماً مقابلے کی توقع رکھتے ہیں لیکن اب ایک اے آئی سافٹ ویئر ایسا بھی ہے جو دوسروں کو ویڈیو گیم دیکھتے ہوئے یہ سیکھتا ہے کہ ویڈیو گیم کس طرح کام کرتے ہیں اور خود اس کے کردار کس طرح آگے بڑھتے ہیں۔

اس ضمن میں جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے دو ماہرین نے تحقیق کے بعد ایک اے آئی سسٹم بنایا ہے جو کسی وڈیو گیم کے کوڈ نہیں دیکھتا بلکہ پکسل کی صورت میں کرداروں کو دیکھتے ہوئے سیکھتا اور خود سے گیم بناتا ہے۔ اس کی تفصیلات ’گیم انجن لرننگ فرام وڈیو‘ کے نام سے ایک تحقیقی مقالہ میں شائع ہوئی ہیں جس میں مشہور گیم سپر ماریو برادرز پر اسے آزمایا گیا۔ اگرچہ اس کے گیم میں کچھ خامیاں ضرور ہیں لیکن یہ اے آئی کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ مصنوعی ذہانت کا الگورتھم چیزوں کو دیکھنے سے سیکھتا ہے۔ اس میں ایک ویژول ڈکشنری ہے جو ویڈیو گیم کی معلومات دیتی ہے اور دوسری جانب اس میں گیم کے متعلق بنیادی معلومات بھی داخل کی گئی ہیں۔ یعنی کون سی شے کہاں رکھی ہے اور کس رفتار یا سمت سے آگے بڑھتی ہے وغیرہ۔

بعد ازاں مصنوعی ذہانت فریم در فریم گیم کھیلنے کے عمل کو سمجھتی ہے اور اس میں جاری قوانین جاننے کی کوشش کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت اپنے چھوٹے چھوٹے اصول خود بناتی ہے مثلاً اگر یہ ہوگا تو پھر ویسا ہوگا وغیرہ۔ پھر سافٹ ویئر ان سب کو جوڑ کر وہ ایک گیم انجن بناتا ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ گیم کے اصول کئی کمپیوٹر لینگویجز میں ڈھالے جاسکتے ہیں اور ان سے دوبارہ نئے ویڈیو گیمز تخلیق کیے جاسکتے ہیں لیکن فی الحال اے آئی نظام صرف ٹو ڈی گیمز ہی تخلیق کررہا ہے اور تھری ڈی گیمز کا عمل سکھانے میں اسے کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

Source
ایکسپریس نیوز
Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close