پاکستان

چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا

اسلام آباد: پاکستان کے دبنگ چیف جسٹس نے چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا-

پاکستان کے چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد جان محمد کے تبادلے کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس صاحب نے فوراَ سیکریٹری داخلہ اور اٹارنی جنرل کو فوری طور پر عدالت میں طلب کرتے ہوئے اس واقعے کی تفصیلات طلب کی تھی-

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ ہمیں یہ معلوم ہوا ہےکہ کسی وزیر کی سفارش پر آئی جی کا تبادلہ کیا گیا، ہم اداروں کو کمزور نہیں ہونے دیں گے اور پولیس میں سیاسی مداخلت بھی برداشت نہیں کریں گے، قانون کی حکمرانی قائم ہوگی۔

معزز چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ ہمیں یہ بھی پتا چلا ہےکہ کسی وزیر کے بیٹے کا مسئلہ تھا اس وجہ سے آئی جی کو ہٹایا گیا۔

بعدازاں اٹارنی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ آئی جی اسلام آباد جان محمد کو وزیراعظم عمران خان کے زبانی حکم پر ہٹایا گیا۔

جب عدالت نے سیکٹری اسلام آباد کو عدالت طلب کیا تو وہ تاخیر سے عدالت پہنچے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یف جسٹس پاکستان نے ان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی آمد کی اطلاع ہمیں دی گئی، کورٹ لگی تو آپ غائب ہو گئے، کیا ججز آپ کا انتظار کرنے کے پابند ہیں؟

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتائیں آئی جی اسلام آباد کو کیوں تبدیل کیا گیا؟ اس پر سیکریٹری داخلہ نے انکشاف کیا کہ آئی جی کو ہٹانے سے پہلے کسی نے مجھے نہیں بتایا، تبادلہ براہ راست سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ نے کیا۔

چیف جسٹس یہ بات سن کر حیران ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ آپ کو معلوم ہی نہیں اور آپ کے آئی جی کو ہٹا دیا گیا، آپ سے پوچھا ہی نہیں گیا۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close