پاکستان

چیف جسٹس نے وزیراعلی سندھ کی کلاس لے لی

کراچی: چیف جسٹس پاکستان نے منی لانڈرنگ کیس میں میں تعاون نہ کرنے پر وزیراعلی سندھ کو طلب کرلیا-

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے مبینہ منی لانڈرنگ کی سماعت جاری ہے اور ے آئی ٹی سربراہ احسان صادق سمیت دیگر ممبران عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے استفارہ کیا کہ چیف سیکریٹری سندھ کہاں ہیں؟ عدم تعاون کی شکایت ہے-

چیف جسٹس نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے تمام ریکارڈ دے دیا ہے، اس پر چیف جسٹس پاکستان نے جے آئی ٹی کے سربراہ سے پوچھا کہ تمام دستاویزات مل گئے ہیں؟ احسان صادق نے بتایا کہ تمام دستاویزات مل گئی ہیں مگر اسکروٹنی کرنی ہے، ہم عدالت کے شکرگزار ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو کہیں مجھے سے چیمبر میں آکر ملیں اور میں واضح کردوں کہ وزیراعلیٰ سندھ کو سمن جاری نہیں کیا، وزیراعلیٰ کو عدم تعاون کی شکایت پر چیمبر میں ملاقات کے لیے بلایا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک ایک ایک ریکارڈ جے آئی ٹی کو نہ مل جائے کراچی میں بیٹھا ہوں، جعلی اکاؤنٹس کے بارے میں پچھلے تین چار دنوں سے کام کررہے تھے۔

چیف جسٹس نے اومنی گروپ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اومنی پر 23 بلین کے واجبات ہیں، یہ 23 بلین بینک کھاگیا یا اومنی؟ سندھ بینک اس لیے تو مرجر کرنے جارہے تھے کہ پتہ ہی نہ چلے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ گودام اور بینک کا ریکارڈ بھی چیک کیا جائے، فائنل رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اومنی سے جواب لے لیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی جانب سے دستاویزات نہ دینے کی شکایت کی گئی تھی، اب تمام سیکریٹریز نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، جے آئی ٹی سے یہ تعاون جاری رکھا جائے، جو عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

چیف جسٹس نے جی آئی ٹی کو سختی سے حکم دیا کہ 70 بلین روپے کے لون کی مکمل تحقیقات کی جائیں، اس میں ملزما ملزمان کے خلاف کرمنل ایکشن لیا جائے۔

سماعت کےدوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایاکہ ٹائم ٹو ٹائم جو ریکارڈ مانگیں گے ہم دے دیں گے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اور جو نہیں مانگیں گے ہم دے دیں گے، اسلام آباد سے کراچی آنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگتاہے، تعاون رہے تو مہربانی ہوگی۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close