پاکستان

قرآن پاک کے ذریعے کینسر سمیت دیگر محلق بیماریوں کا علاج ممکن

کراچی: قرآن مجید کے زریعے کینسر جیسی محلق بیماری سمیت تمام بیماریوں کا علاج کیا جاسکتا ہے-

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور سے تعلق رکھنے والے پیر عثمان قرآن تھراپی کے ذریعے سے لوگوں کا روحانی علاج کرتے ہیں اور دینا بھر سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ ان سے متاثر ہو چکے ہیں-

پیر عثمان نے ایک میڈیا چینل کو دے گئے انٹرویو میں کہا کہ انھیں 32 سال قبل ایک مجذوب کی جانب سے قرآن پاک کے ذریعے علاج کا طریقہ کار عطیہ کیا گیا تھا جس کے بعد سے اب تک وہ مہلک بیماریوں میں ملوث لاکھوں افراد کا علاج قرآن کریم کی سورتوں کے ذریعے کرچکے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ رآن تھراپی یا قرآن ہیلنگ کے ذریعے وہ نہ صرف پاکستان بلکہ مشرق وسطی، یورپ، جاپان، امریکا، ترکی اور دیگر ممالک کے افراد کا علاج کرچکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ طریقہ علاج انتہائی سادہ اور مکمل طور پر مفت ہے، قرآن پاک کا دم کرانے والے افراد کو صرف 5 روپے کسی بھی مسجد میں دینے ہوتے ہیں اور غیرمسلموں کو یہ رقم اپنی عبادت گاہوں میں دینے کی اجازت ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں ان کے 25 ہزار سے زائد شاگرد ہیں جن میں زیادہ تر افراد وہ ہیں جو خود کینسر یا کسی مہلک مرض میں مبتلا تھے اور قرآن تھراپی سے شفایاب ہونے کے بعد انھوں نے اپنی خدمات روحانی طریقہ علاج کے لیے وقف کیں اور آج وہ دنیا بھر میں کامیابی سے مقدس آیات کے دم کے ذریعے انسانیت کی خدمت کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کا طریقہ علاج انتہائی سادہ ہے جس کے تحت دم کرانے والے کو ہر ہفتے 5 سے 6 منٹ دینے پڑتے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ مجذوب کے عطیے کو انھوں نے اپنے آپ تک محدود نہیں رکھا اور ان کے کسی بھی شاگرد سے دم کرانے یا خود ان کے دم کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

پیر عثمان نے بتایا کہ انھوں نے انسانیت کی خدمت کے لیے نہ صرف مسلمانوں اور غیرمسلموں سے تفریق نہیں کی جس کے نتیجے میں 89 غیر مسلم قرآن پاک کے معجزے سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرچکے ہیں۔ ان کے پاس آنے والے 40 فیصد کینسر کے مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کینسر کے وہ مریض جو کیمو تھراپی نہیں کراتے ان کی قوت مدافعت فعال رہتی ہے اور ان کے صحت یاب ہونے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں تاہم انھوں نے کہا کہ کیمو تھراپی کے عمل سے گزرنے والے مریض بھی شفایاب ہوئے ہیں۔ Peerusman.com کے یو آر ایل سے ان کی ویب سائٹ بھی موجود ہے۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close