پاکستان

پاکستان نے افغاستان کے متعلق اپنا موقف واضح کردیا

اسلام آباد: ترجمان وزیر خارجہ ڈاکڑ فیصل نے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں اور پاکستان افغانستان کے حالات بہتر ہونے تک وہاں سے اتحادی فوج کا انخلا نہیں چاہتا۔

انھوں نے دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں وزیر خارجہ نے پاکستان کی نمائندگی کی، وزیر خارجہ نے کانفرنس میں علاقائی روابط اور سی پیک پر روشنی ڈالی اور وزیراعظم عمران خان کا خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔

انھوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے منان وانی کی شہادت پر مذمتی قرار داد منظور کی، پاکستان بھارتی مظالم کی مذمت کرتا ہے، بھارتی مظالم انسانی حقوق کے چیمپئنز کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے۔

قبوضہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، وادی میں ڈاکٹر منان وانی سمیت 7 کشمیری شہید کیےگئے، بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں احتجاج پر پابندی لگائی۔

بھارت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تو ننھی زینب کے زیادتی اور قتل کے مجرم کو تختہ دار پر لٹکا دیا، مقبوضہ کشمیر کے مندر میں ننھی آصفہ کے زیادتی اور قتل کے مجرمان کو سزا نہیں ہوئی، کشمیری بچی آصفہ کے اہلخانہ بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

انھوں نے افغانستان کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں مفاہمت کی تمام کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں البتہ دوحہ میں ہونے والی کسی ملاقات اور پیش رفت کا علم نہیں، پاکستان کا دیرینہ مؤقف ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، امریکا اور افغانستان اس مؤقف کو سمجھ رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھآ کہ پاکستان کسی سے خوفزدہ نہیں ہے،پاکستان چاہتا ہے افغانستان کے حالات بہتر ہونے تک اتحادی فوج کا انخلا نہ ہو، اتحادی فوج کے افغانستان سے انخلا سے سیکیورٹی مسائل پیدا ہوتے ہیں،اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت اتحادی فوج افغانستان میں ہے، پاکستان چاہتا ہے افغانستان کے امن کے لیے 17 سال سے جاری جدوجہد کامیاب ہو۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close