پاکستان

زینب قتل کیس کے متعلق عدالت سے اچانک بڑی خبر آگئی

قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی زینب کو سرعام پھانی دینے کی سماعت کرنے والے جج سردار شمیم احمد خان اور جسٹس شہباز علی رضوی نے بڑا فیصلہ سنا دیا-

زینب کے والد حاجی امین کے وکیل اشتیاق چوہدری نے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 22 کے تحت عوامی مقام پر پھانسی ہو سکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ سیکشن 22 میں لکھا ہے یہ حکومت کا کام ہے اور ہم حکومت نہیں ہیں، کیا آپ نے اس معاملے پر حکومت کو کوئی درخواست دی ہے۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ حکومت کو درخواست دی ہے لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

فاضل جج نے کہا کہ جب پنجاب حکومت نے آپ کی درخواست پر کاروائی نہیں کی تو آپ نے عدالت سے پہلے کیوں نہیں رجوع کیا، آپ اتنا تاخیر سے آئے ہیں، کل پھانسی کی تاریخ مقرر ہے۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ تو پھر عدالت جیل میں ہی مجرم کو پھانسی کے وقت براہ راست نشر کرنے کی اجازت دے دے، پھانسی کی وقت کیمرے لے جانے کی اجازت دے دیں اسکا خرچہ ہم برداشت کر لیتے ہیں۔ تاہم عدالت نے یہ درخواست بھی مسترد کردی۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close