پاکستان

سب انسپکٹرتشدد کیس چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا اہم در عمل

اسلام آباد: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سب انسپکٹرتشدد کیس کی سماعت کرتے ہوئے ایسے دبنگ بیان دیے کہ آپ بھی داد دیے بغیر نا رہ پائیں گے-

یاد رہے کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں صاف دیکھا جا سکتا تھا کہ وکلا کیسے بے رحمی سے پنجاب پولیس کے ایک سب انسپکٹر پر تشدد کررہے ہیں-

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سختی اسے اس واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا-

اس کیس کے متعلق وکلا کی جانب سے ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا یادتی وکلاء کی نہیں بلکہ پولیس کی تھی، لہذ اس مقدمے میں سے انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کی جائیں۔

اس موقع پر صدر اور سیکریٹری لاہور بار سمیت وکلاء کی کثیر تعداد عدالت میں موجود تھی۔

لیکن عدالت کی طرف سے انسداد دہشت گردی کی دفعات معطل کرنے اور نامزد وکلاء کی گرفتاریوں سے متعلق حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی۔

اس موقع پر وکلا اور چیف جسٹس کے درمیان سخت تقرار بھی ہوئی- چیف جسٹس نے ریمارکس دے کہ ‘میں استعفیٰ دے دوں گا مگر بے انصافی نہیں کروں گا’۔

اس موقع پر وکلا کی طرف سے بر تمیزی کی گئی اور شیم شیم کے نعرے بھی لگائے گئے-

جس پر جج صاحبان کی طرف سے سخت برہمی کا اظہار کیا اور حکم جاری کیا کہ ‘شیم شیم کے نعرے لگانے والے آئندہ میری عدالت میں مت آئیں’۔

جس کا جواب دیتے ہوئے صدر لاہور بار نے کہا کہ ‘شیم شیم کے نعرے پولیس کے لیے ہیں’۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی طرف سے سختی سے ریمارکس دے گئے کہ ‘میں اس ادارے کا باپ ہوں گالیاں بھی کھانی پڑی تو کھاؤں گا’۔

سیکرٹری لاہور بار نے چیف جسٹس سےمطالبہ کیا کہ ‘اگر آپ 7 اے ٹی اے معطل نہیں کرتے تو ہم سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیں گے’۔

جس پر چیف جسٹس نے دبنگ اندز میں ریمارکس دیئے کہ ‘آپ لوگ دھرنا دیں تو میں باہر آتا ہوں، دیکھتا ہوں’۔

وکلا کی طرف سے بد تمیزی دیکھ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار عدالت سے باہر آگئے-

چیف جسٹس نے سماعت کے اختتام پر ریمارکس دے کہ سب انسپکٹر پر تشدد کی ویڈیو عدالت میں دکھا کے ذمے داروں کا تعین کریں گے۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close