پاکستان

چیف جسٹس ماجودہ حالات پر برھم دیکھیے کیا کہا ؟

اسلام آباد : ماجودہ حکومت کی ناقص کارگردگی پر چیف جسٹس کا برہمی کا اظہار-

یہ توآپ سب کو معلوم ہوگا کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار پیٹرول پر عائد ٹیکس کی سماعت کرنے والے 3 رکنی بنچ کی سربراہی کر رہے ہیں –

چیف جسٹس نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آج کل حالات بہت خراب ہیں، مہنگائی سے لوگ پریشان ہیں اور ڈالر دیکھیں کہاں جا رہا ہے۔

سماعت کے آغاز میں پاکستان سٹیٹ آئل کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ایل این جی اور پیٹرول کی قیمتیں زیادہ کنٹرول نہیں کی جا سکتیں تاہم کچھ اقدامات کیے جا سکتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ اقدامات حکومت کو ہی کرنے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا پی ایس او کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) 37 لاکھ تنخواہ کس مد میں لے رہے ہیں ؟جس کا جواب دیتے ہوئے وکیل نے بتایا ایم ڈی کی تقرری وفاقی حکومت کرتی ہے، اس پر پی ایس او بورڈ کا کوئی کنڑول نہیں۔

وکیل پی ایس او نے کہا کہ ایم ڈی عمران الحق کا باضابطہ طریقے سے تقرر کیا گیا اور تنخواہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق دی گئی

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بتائے کس بنیاد پر ایم ڈی پی ایس او کو 37 لاکھ تنخواہ دی گئی، کوئی اور بندہ پاکستان میں اتنی تنخواہ نہیں لے رہا ہوگا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ایم ڈی پی ایس او کی تقرری کا معاملہ نیب کو بھجوا دیتے ہیں اور نیب ان کی تنخواہ اور مراعات کی تحقیقات کرے۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close