پاکستان

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پی ٹی آئی کو کھری کھری سنادی

اسلام آباد: چیف جسٹس نے ڈی پو او پاکپتن رضوان گونڈل کیس کی ازخوسماعت کرتے ہوئے یراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، سابق آئی جی کلیم امام اور وزیراعلیٰ کے دوست احسن جمیل گجر کو تحریری معافی نامے جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس نے یہ بھی حکم جاری کیا کہ ‘معافی اسٹرانگ ورڈز میں مانگیں۔’

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، سابق آئی جی کلیم امام اور احسن جمیل گجر میں شدید خوف کی لہر پائی گئی اور انھوں نے سینئر پولیس افسر خالق داد لک کی رپورٹ پر جمع کروائے گئے اپنے جوابات واپس لے لیے۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کو دوسرے زاویے سے دیکھا جائے جس پر چیف جسسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ‘معاملے کو جس زاویے سے بھی دیکھیں حقائق وہی رہیں گے’۔

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کے روبرو کہا کہ ‘معاملہ حساس تھا، اس لیے احسن جمیل گجر نے وزیراعلیٰ سے بات کی’۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘وزیراعلیٰ نے تو ملاقات نہیں کی بلکہ پرائیویٹ شخص کو ملاقات کے لیے بلایا’۔

چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس معاملے کو آسان لے رہے ہیں، وزیراعلیٰ نے خالق داد لک سے متعلق کیا زبان استعمال کی ہے؟’

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مزید کہا کہ آپ اس معاملے کو آسان لے رہے ہیں، وزیراعلیٰ نے خالق داد لک سے متعلق کیا زبان استعمال کی ہے؟’

انہوں نے کہا، ‘آپ ایک بہترین افسر کے بارے میں ایسا لکھ رہے ہیں، آپ نے انکوائری افسر پر ذاتی نوعیت کے الزامات لگائے’۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ‘آپ معافی کے دائرے سے باہر نکلتے جا رہے ہیں، میں خود اس معاملے کی انکوائری کر لیتا ہوں، کہتے ہیں تو جے آئی ٹی بنوا لیتے ہیں’۔

چیف جسٹس میاں صاحب نثار نے پی ٹی آئی کو شدید تنقید کا بناتے ہوئے کہا کہ ‘وزیراعظم کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت رہنے تک عثمان بزدار وزیراعلیٰ رہیں گے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘اگر عثمان بزدار وزیراعلیٰ پنجاب رہیں گے تو عدالت کے حکم کے تحت رہیں گے’۔

سماعت کے دوران وکیل رہنما احسن بھون روسٹرم پر آئے توعدالت نے انہیں منع کردیا۔

اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا، ‘جہاں رول آف لاء کی بات آئے گی، میں کسی لیڈر کو نہیں مانتا،کیا آپ وکلاء ایسا رول آف لاء چاہتے ہیں؟’

احسن بھون نے جواب دیا کہ ‘میں 1980 سے احسن جمیل کو جانتا ہوں’۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘میں تو پانچ دن میں اس بندے سے پریشان ہو گیا ہوں، میری طرف سے اس سے متعلق وزیراعظم کواظہار ناپسندیدگی کا بتادیں’۔

چیف جسٹس نے حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ‘کیا یہ ہے وہ حکومت جو نیا پاکستان بنانے جارہی ہے’۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close