کھیل

لاہور قلندرز نے ایک اور تباہ کن بیٹسمن ڈھونڈ نکالا

ابوظہبی: لاہور قلندز کی ایک بڑی کھوج سہیل اختر نامی تباہ کن بیٹسمن ڈھونڈ نکالا-

سہیل اختر نے اپنے ٹی 20 کیرئر کی ہی پہلی سنچری اسکور کی اور ایک شاندار اننگز کھیل کے ٹیم کو فتح دلائی انھوں نے اپنی شاندار پرفامنس کا کریڈٹ اپنے کوچز ایاز اکبر، وسیم اور خاص طور پر اہور قلندر کے ڈائریکڑ کرکٹ عاقب جاوید اور ثمین رانا کو دیتے ہوئے کہتے ہیں،کہ دونوں کا اعتماد ہی انہیں اس مقام تک لایا۔

انھوں نے عاقب جاوید اورثمین کے متقلق مزید کہا کہ عبدالرزاق، عمران نذیر اور ذوالفقار بابر جیسے ٹیسٹ کرکٹرز کی موجودگی میں انھیں قیادت کروانا اعزاز کی بات تھی جس پر بجا طور پر وہ ان دونوں کے بے حد مشکور و ممنون ہیں۔

آئیے اک نظر ڈالتے ہیں سہیل اختر کی ابتدائی زندگی پر

 

سوہیل اختر ایک مڈل کلاس گھرانے میں جو 2 مارچ 1986ء کو پیدا ہوئے، انھیں بچپن سے ہی کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق تھا اور انھوں نے کرکٹ کا آغاز ٹیپ بال کرکٹ سے کیا-

ان کا تعلق ایبٹ آباد ریجن کے ہری پور ڈسڑکٹ سے ہے، جہاں کرکٹ کا کوئی خاص وجود ماجود نہیں لہذا انہیں ایبٹ آباد ریجن میں کھیلنے کا موقع نا ملا جس کی وجہ سے وہ ٹیم میں جگہ نا بنا سکے-

ان کی باقی امیدیں اس وقت ٹوٹ گئی جب ایبٹ آباد فرسٹ کلاس کرکٹ سے باہر ہو گئی، اس بات سے دل برداشتہ ہوکر انھوں نے کرکٹ کو خیرباد کہ دیا اور کرکٹ چھوڑنے کے 3 سال بعد اٹا کے کوچ ایاز اکبر یوسف زئی نے لاہور قلندر کے ٹرائلز میں عاقب جاوید سے متعارف کروایا۔

یہ تو آپ سب کو معلوم ہوگا کہ عاقب جاوید انتہائی تجربہ کار کھلاڑی رہ چکے ہیں اور ایک زبردست کوچ بھی ہیں انھوں نےسہیل اختر میں چھپے ٹیلنٹ کو ڈھونڈ نکالا-

عاقب جاوید نے انہیں لاہور بلایا اور لاہور قلندز کرکٹ اکیڈمی میں مدعو کیا –

سہیل اختر نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور شدید محنت کرکے ایک بار پھر سے بھر پور کم بیک کیا-

عاقب جاوید نے چیف ایگزیکٹو آفیسر عاطف رانا سے سہیل اختر کو پاکستان سپر لیگ کھلانے کی درخواست کر دی، رانا فواد نے لبیک تو کہہ دیا لیکن ہی آسان نا تھا کیونکہ پاکستان سپر لیگ میں ایمرجنگ کیٹگری میں عمر کی حد 23 سال ہے اور سہیل اختر 32 سال کے تھے-

اس معمالے پرعاطف رانا نے پی ایس ایل گورننگ کونسل کو قائل کرنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب ہوگئے یوں سہیل اختر ٹیم میں شامل ہوئے-

طے پایا کہ ڈس کوری کیٹگری متعارف کروائی جائے جہاں 32 سال کا کھلاڑی کھیلنے کا اہل ہو، یوں سہیل اختر پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندرز کا حصہ بنے۔

طے پایا کہ ڈس کوری کیٹگری متعارف کروائی جائے جہاں 32 سال کا کھلاڑی کھیلنے کا اہل ہو، یوں سہیل اختر پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندرز کا حصہ بنے۔

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close