پاکستان

سپریم کورٹ کا عمران خان کو بڑا حکم

اسلام آباد: بنی گالہ چیف جسٹس نے اپنے دبنگ بیان میں کہا کہ ‘عمران خان کو بھی پراپرٹی ریگولرائز کرانا پڑے گی، اگر ان کے گھر کی ریگولیشن بھی نہیں ہے تو وہ جرمانہ ادا کرکے کرالیں’۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی کی سربراہی میں بنی گالہ میں غیرقانونی تجاوزات کے متعلق کیس کی سماٰعت ہوئی جس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سروےآف پاکستان کی رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ سی ڈی اے، وفاقی محتسب اور سروے آف پاکستان کی رپورٹس یکساں ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ ‘کورنگ نالے میں اتنی گندگی ہے کہ پانی آگے نہیں جارہا’۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ ‘ہم بوٹینیکل گارڈن کی چار دیواری بنا رہے ہیں، جس کی 613.49 کنال اراضی پر قبضہ ہے، اگر عدالت حکم دے تو ناجائز قابضین سے اراضی واگزار کرائی جائے’۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘تجاوزات کو کیسے ختم کیا جائے؟ جبکہ بنی گالہ میں تجاوزات کےعلاوہ سیکیورٹی اور آلودگی جیسے مسائل بھی ہیں’۔

بنی گالہ کے ایک رہائشی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ‘جوڈیشل کالونی کا بھی کچھ حصہ بوٹینیکل گارڈن میں آرہا ہے، جسے جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا گیا’۔

ساتھ ہی چیف جسٹس نے کہا کہ ‘اب نئی حکومت آگئی ہے، ان معاملات کو حل کرے’۔

جس پر وزیراعظم عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ‘جوڈیشل کالونی مری کے علاقے میں آتی ہے اور وہ بہت دور ہے’۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ‘تجاوزات کی حد تک اس معاملے کو نمٹا دیتے ہیں کہ جنہوں نے غیر قانونی تعمیرات کیں، اُن سےجرمانے بھی لیے جائیں، حکومت اپنے جرمانے بھی ادا کرے اور دوسرے لوگوں سے بھی لے’۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘عمران خان کو بھی پراپرٹی ریگولرائز کرانا پڑے گی، اگر ان کے گھر کی ریگولیشن بھی نہیں ہے تو وہ جرمانہ ادا کرکے کرالیں’۔

اس کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے بنی گالہ تجاوزات کیس کی سماعت جمعہ (5 اکتوبر) تک ملتوی کردی۔

جسٹس ثاقب نثار نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا، ‘آپ حکومت میں ہیں بتائیں ریگولرائز کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟’

جس پر بابر اعوان نے جواب دیا کہ ‘یہ معاملہ کابینہ کے پاس ہے’

 

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close